پاکستان کی ٹیم نے سُپر اوور میں اس ہدف کے تعاقب کے لیے افتخار احمد اور فخر زمان کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں پاکستان کے بلے بازوں کو ایک ایسے فاسٹ بولر کا سامنا تھا جن کا شاید اس ورلڈ کپ سے پہلے زیادہ تر پاکستانی شائقین کرکٹ نے نام بھی نہ سُنا ہو: سوربھ نریش نیتراوالکر۔

سوربھ نیتراوالکر، امریکہ، انڈیا، پاکستان

Getty Images
سوربھ نریش نیتراوالکر سنہ 2015 میں انڈیا چھوڑ کر امریکہ منتقل ہوگئے تھے

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ دیکھنے والے پاکستانی شائقینِ کرکٹ کے لیے جمعرات کی رات اس وقت ایک ڈراؤنا خواب بن گئی جب گرین شرٹس کو امریکہ کے ہاتھوں سُپر اوور میں چھ رنز سے شکست ہوئی۔

 

 

ڈیلس میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان کی ٹیم امریکہ کے خلاف شروع سے ہی مشکلات کا شکار نظر آئی اور پاور پلے میں ہی تین وکٹیں گنوا بیٹھی۔ کپتان بابر اعظم نے 44 اور شاداب خان نے 40 رنز بناکر پاکستان کو مقررہ 20 اوورز میں 159 رنز کے سکور پر پہنچایا۔

سوربھ نریش نیتراوالکر نے امریکہ کی طرف سے چار اوورز میں صرف 18 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔

امریکہ کے بلے باز جب اس ہدف کے تعاقب کے لیے میدان میں اُترے تو ایسا لگا جیسے انھیں یقین تھا کہ وہ پاکستان کو اپنے ہی گراؤنڈ میں چاروں خانے چِت کرسکتے ہیں۔

کپتان مونانک پٹیل نے 38 گیندوں پر 50، ایرون جونز نے 26 گیندوں پر 36 اور انڈریز گوس نے 26 گیندوں پر 35 رنز بنائے۔

پاکستانی فاسٹ بولرز نے میچ میں کم بیک کیا اور ایک وقت میں ایسا لگا جیسا پاکستان بمشکل ہی سہی لیکن یہ میچ جیتنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ لیکن امریکہ کی ٹیم میچ کو آخری اوور تک لے جانے میں کامیاب رہی جہاں انھیں حارث رؤف کا سامنا تھا اور 15 رنز کی ضرورت تھی۔

امریکہ کے ایرون جونز اور نتیش کمار نے ایک چھکے اور چوکے کی مدد سے اس اوور میں 14 رنز بنائے اور یہ میچ ٹائی ہوگیا۔

جب معاملہ سپر اوور تک پہنچا تو کپتان بابر اعظم نے اپنے سب سے تجربہ کار بولر محمد عامر پر انحصار کیا لیکن تجربہ کار بولر بھی پاکستان کے لیے ایک اچھا اوور نہیں کرواسکے۔

محمد عامر نے اس اوور میں چھ کے بجائے نو گیندیں کروائیں جن میں تین وائیڈ بالز بھی شامل تھیں۔ ان وائیڈ بالز پر بھی امریکہ کی ٹیم سات رنز سمیٹنے میں کامیاب رہی اور پاکستان کو ایک اوور میں 19 رنز کا ہدف دے دیا۔

پاکستان کی ٹیم نے سُپر اوور میں اس ہدف کے تعاقب کے لیے افتخار احمد اور فخر زمان کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں پاکستان کے بلے بازوں کو ایک ایسے فاسٹ بولر کا سامنا تھا جن کا شاید اس ورلڈ کپ سے پہلے زیادہ تر پاکستانی شائقین کرکٹ نے نام بھی نہ سُنا ہو: سوربھ نریش نیتراوالکر۔

سوربھ نے نہ صرف اپنی چھ گیندوں پر افتخار احمد کی وکٹ حاصل کی بلکہ پاکستان کو 13 رنز تک محدود کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو تاریخ کی سب سے بڑی فتح بھی دلوادی۔

سُپر اوور کروانے والے سوربھ اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موضوعِ گفتگو بنے ہوئے ہیں۔

سوربھ نیتراوالکر، امریکہ، انڈیا، پاکستان

Getty Images
ڈیلس میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان کی ٹیم امریکہ کے خلاف شروع سے ہی مشکلات کا شکار نظر آئی

سوربھ نریش نیتراوالکر کون ہیں؟

امریکہ کی جیت کے بعد امریکی سافٹ ویئر کمپنی ’اوریکل‘ نے بھی ٹیم کو مبارکباد دی اور دُنیا کو بتایا کہ سوربھ ان کی کمپنی میں بطور انجینیئر ملازمت کرتے ہیں۔

’اوریکل‘ کارپوریشن کا شمار دنیا کی سب سے بڑی سافٹ ویئر کمپنی میں ہوتا ہے اور گذشتہ برس امریکی میگزین فوربز نے اسے مجموعی طور پر دنیا کی 80ویں بڑی کمپنی قرار دیا تھا۔

ماضی میں امریکی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرنے والے سوربھ کا تعلق انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا سے ہے اور وہ انڈیا کی انڈر19 ٹیم کے بھی نہ صرف رُکن رہے ہیں بلکہ ایک ورلڈکپ بھی کھیل چکے ہیں۔

انھوں نے سنہ 2010 کے انڈر19 ورلڈکپ میں انڈیا کی جانب سے نو وکٹیں حاصل کی تھیں۔ سوربھ کے ساتھ انڈر19 کرکٹ کھیلنے والے کے ایل راہُل، ماینگ اگروال اور جے دیو انداکٹ انڈیا کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔

بی بی سی ہندی کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران سوربھ نے کہا تھا کہ ’2013 میں مجھے انجینیئرنگ کے شعبے میں ایک نوکری مل گئی تھی، پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں تقریباً دو سال تک کام نہیں کروں گا اور اپنا وقت کرکٹ کو دوں گا۔ میں ممبئی کی ٹیم کے لیے کھیلنا چاہتا تھا، میں نے اسی سال ممبئی کے لیے اپنا ڈیبیو بھی کر لیا۔‘

لگاتار دو برسوں تک محنت کرنے کے باوجود بھی نہ وہ انڈین ٹیم میں جگہ بنا سکے اور نہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کھیل سکے۔

انھوں نے سنہ 2015 میں انڈیا کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا خواب ترک کردیا اور اپنی پڑھائی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا۔

سوربھ نے امریکہ کی کورنل یونیورسٹی سے کمپیوٹر انجینیئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس سے قبل وہ یونیورسٹی آف ممبئی سے بیچلرز تک تعلیم حاصل کر چکے تھے۔

انھیں شاید یہ نہیں پتا تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کھلینے کے جس خواب کو وہ پورا نہیں کرپائے، ان کا وہ خواب امریکہ آ کر حقیقت کا روپ دھار لے گا۔

انھوں نے نہ صرف ماسٹرز کی تعلیم مکمل کی بلکہ یونیورسٹی میں کرکٹ بھی کھیلنے لگے اور بالآخر امریکہ کی قومی ٹیم کے رُکن بن گئے۔

کرکٹ کھیلنے کے ساتھ انھوں نے اوریکل کارپوریشن میں بھی ملازمت اختیار کی۔ ان کے ’لِنکڈ اِن‘ پروفائل کے مطابق وہ گذشتہ آٹھ برسوں سے اس کمپنی کے ساتھ منسلک ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق سوربھ کے والد انڈیا کے شہر ممبئی میں مقیم ہیں اور پانچ برس پہلے انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران اپنے بیٹے کی کرکٹ میں واپسی پر کہا تھا کہ: ’میں اس کے لیے بہت خوش ہوں۔ وہ ہمیشہ ٹاپ لیول پر کرکٹ کھیلنا چاہتا تھا اور بالآخر وہ اپنا خواب جی رہا ہے۔‘

سوربھ نیتراوالکر، امریکہ، انڈیا، پاکستان

Getty Images
سوربھ نے امریکہ کی کورنل یونیورسٹی سے کمپیوٹر انجینیئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی

’اس نے اپنے کام اور کرکٹ کو ایک ساتھ لے کر چلنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔‘

فروری 2020 میں انڈین اخبار دا ہندو کا دیے گئے ایک انٹرویو میں سوربھ نے امریکہ منتقلی کے حوالے سے کہا تھا کہ ’میں اپنی کرکٹ کِٹ بھی ساتھ امریکہ لے کر نہیں گیا تھا، مجھے ہمیشہ پڑھائی سے محبت رہی ہے اور کمپیوٹر سائنس سے دلچسپی تھی تو جب مجھے موقع ملا تو میں آگے بڑھ گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’میں ہمیشہ انھیں (امریکی کرکٹرز) کو ممبئی کے کرکٹ کلچر کے بارے میں بتاتا ہوں جو کہ سِکھاتا ہے کہ ہمیں ہار نہیں ماننی چاہیے۔‘

سوربھ کو کب پتا چلا کہ امریکہ کی بھی ایک کرکٹ ٹیم ہے؟

اوریکل میں ملازمت اختیار کرنے کے بعد سوربھ سان فرانسسکو منتقل ہوگئے جہاں ہر ہفتہ وار تعطیلات میں کلب کرکٹ کے ٹورنامنٹس کھیلے جاتے تھے۔

سوربھ کہتے ہیں کہ ’وہ ٹورنامنٹس انڈیا کے معیار کے نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی یہاں عام پچز تھیں۔ تاہم لاس اینجلس میں ضرور ایک پارک میں ممبئی کی طرح کی تین یا چار پچز موجود تھیں۔‘

سان فرانسسکو سے لاس اینجلس پہنچنے کے لیے اپنی کار میں تقریباً چھ گھنٹے لگتے ہیں اور سوربھ ہر جمعے کو وہاں جایا کرتے تھے تاکہ وہ سنیچر کو میچ کھیل کر اتوار کو واپس سان فرانسسکو آ سکیں۔

سوربھ کہتے ہیں کہ ’وہاں میرے ساتھ کلب میں تین، چار لوگ تھے جو امریکی ٹیم کی نمائندگی کر رہے تھے۔ دراصل مجھے تب ہی معلوم ہوا کہ امریکہ کی بھی کرکٹ ٹیم ہے۔‘

سوربھ اپنے ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر میں 48 میچز کھیلے چکے ہیں جس میں انھوں نے 73 وکٹیں حاصل کی ہیں، جبکہ 29 ٹی20 میچز میں ان کی وکٹوں کی تعداد 29 ہے۔

مگر وہ امریکی کرکٹ ٹیم کے واحد پارٹ ٹائم کھلاڑی نہیں۔ نوستوش کنجیے نے 800 گھنٹوں تک کمیونٹی سروس میں حصہ لیا تاکہ وہ امریکی کرکٹ ٹیم میں کھیل سکیں۔

ٹی20 ورلڈ کپ میں امریکہ کی ٹیم گروپ اے کا حصہ ہے جس میں پاکستان کے علاوہ انڈیا، آئرلینڈ اور کینیڈا کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔

امریکہ نے اس ورلڈ کپ کے اپنے پہلے میں کینیڈا کو شکست دی تھی اور اس وقت وہ دو میچز جیتنے کے بعد گروپ اے کی پوائنٹس ٹیبل پر پہلے نمبر پر ہے۔

پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ میں اپنا دوسرا میچ 9 جون کو انڈیا کے خلاف نیویارک میں کھیلے گا، جبکہ امریکہ کی ٹیم بھی 12 جون کو اپنے اگلے میچ میں انڈیا کا سامنا کرے گی۔