پنجاب حکومت کا صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی نجکاری کا فیصلہ

پنجاب حکومت کا صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی نجکاری کا فیصلہ صوبے کے سرکاری اسکولوں کو مرحلہ وار پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے زیر انتظامات کر دیا جائے گا

لاہور ( 16 مارچ2024ء) پنجاب حکومت کا صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی نجکاری کا فیصلہ، صوبے کے سرکاری اسکولوں کو مرحلہ وار پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے زیر انتظامات کر دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق ایک جانب جہاں وفاقی حکومت متعدد اداروں کی نجکاری کی تیاریاں کررہی ہے، وہیں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت نے سرکاری اسکولوں کی نجکاری کی بھی تیاریاں شروع کر دیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی نجکاری اور انہیں پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ سسٹم کے تحت چلانے کا فیصلہ کرلیا۔ ابتدائی مرحلے میں مستقل اساتذہ کی کمی والے سرکاری اسکولوں کو فوری طور پر پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے زیر انتظامات کر دیا جائے گا جبکہ محکمہ نے اس عمل کو تیز کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر ایسے اسکولوں کی فہرستیں طلب کی ہیں۔
اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی سہولیات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کریں جس میں کلاس رومز، اسٹاف روم، ہال، بند کمرے، عمارت کا کل رقبہ، اور اندراج شدہ طلبا و طالبات کی تعداد شامل ہیں۔ دوسری جانب اساتذہ کی تنظیموں نے نجکاری کے منصوبے کی سخت مخالفت کی ہے اور نئے اساتذہ کی فوری بھرتی کا مطالبہ کیا ہے۔ خبردار کیا گیا ہے کہ اسکولوں کی نجکاری سے تعلیمی اخراجات میں اضافہ اور ہر سطح پر فیسوں میں زبردست اضافہ ہوگا۔ مفت نصابی کتابوں کے نظام کو ختم کرنے سے سرکاری اسکولوں میں طلبا و طالبات کے اندراج میں کمی آئے گی۔

Leave a Comment