اسلام آباد(  29 نومبر2023ء) پی ٹی آئی کیر ٹیکر چئیرمین کے لیے بیرسٹر گوہر علی خان کا اعلان کر دیا گیا۔ عارضی چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی کے اعلان پر بیرسٹر گوہر علی خان جذباتی ہو گئے۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ خان صاحب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔خان صاحب چئیرمین تھے اور تاحیات رہیں گے۔

عمران خان کے آنے تک اپنی ذمہ داری نبھاؤں گا۔ ران خان پارٹی کا اول اور آخر نظریہ ہیں، دعا ہے اس بھاری ذمہ داری کو نبھا سکوں۔ جبکہ سینیٹر علی ظفر نے ہم الیکشن کمیشن کا فیصلہ بھی چیلنج کریں گے اور انٹرا پارٹی الیکشن بھی کروائیں گے۔ 2 دسمبر کو انٹرا پارٹی الیکشن ہوں گے۔ کل پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس ہفتے انٹرا پارٹی الیکشن ہوں گے۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ عمران خان کو جب الیکشن کمیشن کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے قانونی رائے مانگی کہ آیا وہ انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں اور اگر وہ حصہ لیتے ہیں تو مستقبل میں کیا رکاوٹیں درپیش ہو جاسکتی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن کو کوئی بہانہ نہیں دینا چاہتا کہ وہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی سے بلے کا نشان لے لیں، یا پی ٹی آئی کو الیکشن میں حصہ نہ لینے دیں،انٹرا پارٹی الیکشن میرے لیے معنی نہیں رکھتا،عوام ہمارے ساتھ ہیں اور عام انتخابات جیتیں گے۔

چئیرمن پی ٹی آئی نے قانونی ٹیم سے چئیرمن شپ کے انتخابات کے حوالے سے مشاورت کی،قانونی ٹیم کے مطابق چئیرمن پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ ہوا اور سزا سنائی گئی، ہمارے مطابق یہ سزا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے،قانونی طور پر چئیرمین پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔جب تک توشہ خانہ کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا۔عمران خان انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ سینیٹر علی ظفر نے اعلان کیا کہ عمران خان نے پارٹی چئرمین کے عہدے کے لیے بیرسٹر گوہر کا نام دیا، بیرسٹر گوہر علی خان عارضی طور پر عہدہ سنبھالیں گے۔ نگران چئیرمین کا مقصد مائنس ون نہیں ہے۔